Easy Returns
14 Days ReturnLowest Prices
Best in MarketCustomer Support
WhatsApp/Call/EmailFast Shipping
1-4 Days
Download app for exclusive deals
Scan to shop smarter on Lumu!

ترے دیار میں خزاں ، خزاں کی فصل بے ثمر
خزاں کی فصل میں سفر ، سفر کی رات بے خبر
تمام دیس اجنبی ، خموش ایک اک مکاں
ترے مکاں کے آس پاس رہگذر نہ رابگیر
فقط اداس دو شجر ، برہنہ سر تھکے تھکے
شجر ، کہ جن کی ٹہنیوں نے کھودیے ہیں برگ وبار
ہوا کی سرد لہر سے وہ کپکپا کے رہ گئے
اتر رہے ہیں دم بہ دم سفید کہر کے غبار
اسی غبار میں چھپے ترے دیار کے نصیب
مکاں سے دور آسمان، آسماں پہ قمقمے
ٹھٹھر ٹھٹھر کے بجھ گئے وہ زرد رو چراغ بھی
خلا کی دھندلی برف پر سکڑ کے چاند جم گیا
ترے مکاں کے بام پر دیوں کی ہلکی روشنی
ستارہی ہے رات کو ، بڑھا رہی ہے خامشی
اسی مہیب خامشی میں دو قدم دبے دبے
کبھی وہ چل کے رک گئے کبھی وہ رک کے چل پڑے
وہ چل پڑے تو زندگی کا نور پھیلنے لگا
جو ڑک گئے تو تھم گئی ہے نبض کا ئنات کی
ISBN 978-969-8380-89-2