شاعری کی راہ سے
Regular price Rs.1,200
Regular price Sale price Rs.1,200
Sale Sold out

شاعری کی راہ سے

شاعری کی راہ سے

Regular price Rs.1,200
Regular price Sale price Rs.1,200
Sale Sold out
View full details

Sold By

Aaj Ki Kitabain
✓ Verified Seller
Installment Plans
Easy Returns

Easy Returns

14 Days Return
Lowest Prices

Lowest Prices

Best in Market
Customer Support

Customer Support

WhatsApp/Call/Email
Fast Shipping

Fast Shipping

1-4 Days
Download App

Download app for exclusive deals

Scan to shop smarter on Lumu!

21 مارچ 1923 کو دمشق میں جنم لینے اور 30 اپریل 1998 کو لندن میں دنیا سے رخصت ہونے والا شامی شاعر نزار قبانی (پورا نام نزار توفیق قبانی) کئی وجوہات کی بنا پر ہم اردو والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ جدید عربی شاعری کی روایت میں اسے کئی اعتبار سے انوکھا اور نیا قرار دیا گیا اور ہم اس کا مطالعہ اس نظر سے بھی کر سکتے ہیں کہ فیض اور راشد سے لے کر اختر حسین جعفری تک کے ہم عصر اس عرب شاعر نے اپنے زمانے کے سیاسی ، سماجی اور عالمی حالات اور رویوں سے کس طرح کے اثرات قبول کیے اور انھیں شاعری میں کیسے برتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں اردو میں نثری نظم کی تحریک کے بڑے ناموں کا بھی ہم عصر دکھائی دیتا ہے جنھوں نے اپنے مکمل شعری اظہار کے لیے اردو کے مروجہ اسالیب اور اصناف کو ناموزوں پایا اور شعری بیانیے کو نئی راہیں دکھائیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے ایک بڑے ادیب اوکتاویو پاز کی طرح نزار بھی سفارت کاری کے پیشے سے منسلک رہا اور اس سلسلے میں انگلستان، اسپین، چین اور دوسرے ملکوں میں اس کا طویل عرصے تک قیام بھی رہا۔ پھر شام کے ہمسایہ عرب ملکوں لبنان اور مصر میں تو وہ وہاں کے شہری ہی کی حیثیت سے گھومتا پھرتا تھا۔ اس نے کھلے دل اور ذہن سے دنیا کی کئی ثقافتوں کی روح کو محسوس کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود ایک سچا شامی اور عرب رہا۔ اس کا یہ اندازِ نظر ہمارے لیے بھی ایک مثال ہے۔ نزار کی ادبی پیش رفت لسانی و شعری بھی تھی اور موضوعاتی بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے شہرت بھی حاصل ہوئی اور وہ کئی تنازعات میں بھی ملوث رہا۔ اس کتاب میں، جو نثری نظم کی ہیئت میں لکھی ہوئی آپ بیتی ہے، نزار قبانی نے اس اہم نکتے کو اجاگر کیا ہے کہ ایک مکمل اور باشعور شخص ہونے کے ناتے شاعر ( یا ادیب) کا سروکار پوری انسانی صورت حال سے ہوتا ہے اور وہ انسانی زندگی اور معاشرت کے کسی بھی پہلو کو اپنی ادبی واردات کی رسائی سے باہر نہیں سمجھتا۔ ISBN: 978-969-648-066-2