لغات روز مرہ
Regular price Rs.2,800
Regular price Sale price Rs.2,800
Sale Sold out

لغات روز مرہ

لغات روز مرہ

Regular price Rs.2,800
Regular price Sale price Rs.2,800
Sale Sold out
View full details

Sold By

Aaj Ki Kitabain
✓ Verified Seller
Installment Plans
Easy Returns

Easy Returns

14 Days Return
Lowest Prices

Lowest Prices

Best in Market
Customer Support

Customer Support

WhatsApp/Call/Email
Fast Shipping

Fast Shipping

1-4 Days
Download App

Download app for exclusive deals

Scan to shop smarter on Lumu!

زندہ زبانیں بدلتی رہتی ہیں۔ الفاظ و استعمالات کا رد و قبول کا مسلسل عمل اس تبدیلی ، اور اس کے باعث زبان کی زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن کسی وقت کسی زبان میں کیا ہورہا ہے ، جو تبدیلیاں آرہی ہیں وہ کس نوعیت کی ہیں، وہ صحت مند رجحانات کی آوردہ ہیں یا سہل انگاری اور لاعلمی کا نتیجہ ہیں؟ ان سوالوں پر غور کرنا اور نئے پرانے الفاظ و استعمالات کو چھان بین کے  عمل سے گزارنا بھی زبان کے سنجیدہ طالب علم کے اہم ترین فرائض میں ہے۔ تبدیلی کو آنکھ بند کر کے قبول کرنا ، یا نئے پرانے لفظوں کو مصنوعی تصور اصلاح یا تصور ارتقا کے دباؤ میں آکر مسترد کرنا ، یہ دونوں رجحانات ترقی پذیر یا ترقی یافتہ زبانوں کے بولنے والوں کا شیوہ نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی زبان کبھی خالص حالت میں نہیں ہوتی۔ لیکن معیاری زبان کا ایک خیالی تصور ہر ترقی یافتہ زبان میں ہوتا ہے ۔ اردو میں بھی یہ تصور موجود ہے ۔ زبان کو برتنے والے وقتا فوقتا ہی خیالی تصور زبان سے استفادہ کرتے ہیں ، اور ہر ترقی یافتہ زبان اس تصور کے مطابق ارتقا کرتی ہے ۔ زبان ایسی شے ہے جو بیک وقت ماضی اور حال میں موجود رہتی ہے اور اپنی دونوں حیثیتوں میں ہم پر اثر انداز ہوتی ہے۔

زیر نظر کتاب کے اندراجات میں زیادہ تر بحث ان ناپسندیدہ الفاظ ، فقروں اور لسانی اختراعاتات سے ہے جو غیر ضروری طور پر ، یا لکھنے بولنے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ہماری زمین میں درانداز ہورہے ہیں ۔ علاوہ بریں، بہت سے لغات کے مختلف فیہ تلفظ ، یا جنس کو زیر بحث لایا گیا ہے  ۔ کچھ اندراجات ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق جدید روزمرہ سے نہ ہو لیکن جو لسانی یا تاریخی حیثیت سے دلچسپی کے حامل ہیں اور زبان کے طالب علم ، یا اس کے سنجیدہ استعمال کرنے والے کے لیے سود مند ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رواج عام کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے یعنی باصلاحیت بولنے والوں کے قول اور عمل کو مکتبی اور کتابی رایوں پر تفوق دیا گیا ہے ۔ ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں علاقائی تلفظ اور استعمالات کو مناسب جگہ دی گئی ہے ۔ کتاب کے زیر نظر تیسرے ایڈیشن میں نئے اندراجات کثرت سے بڑھائے گئے ہیں اور پرانے اندراجات کے لئے بھی حسب ضرورت توضیحی عبارتیں شامل کی گئی ہیں ۔ اشاریہ الفاظ کو نئے اندراجات کی روشنی میں دوبارہ مرتب کیا گیا ہے اور ایک نیا اشاریہ اسما بھی شامل کیا گیا ہے۔

ISBN 978-969-648-113-3