بے یقین بستیوں میں
Regular price Rs.950
Regular price Sale price Rs.950
Sale Sold out

بے یقین بستیوں میں

بے یقین بستیوں میں

Regular price Rs.950
Regular price Sale price Rs.950
Sale Sold out
View full details

Sold By

Aaj Ki Kitabain
✓ Verified Seller
Installment Plans
Easy Returns

Easy Returns

14 Days Return
Lowest Prices

Lowest Prices

Best in Market
Customer Support

Customer Support

WhatsApp/Call/Email
Fast Shipping

Fast Shipping

1-4 Days
Download App

Download app for exclusive deals

Scan to shop smarter on Lumu!

علی اکبر ناطق کو ادبی منظر نامے پر نمودار ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے مگر انھوں نے تقریبا سب کی توجہ اپنی طرف منعطف کرلی ہے۔ وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور شاعر بھی ۔... ان کی نظم کے مابعد الطبیعیاتی سروکار میراجی کی یاد دلاتے ہیں ۔۔۔ علی اکبر ناطق کو میراجی کا مقلد نہیں کہہ سکتے لیکن اس وقت ان کے علاوہ کوئی شاعر ایسا ہے بھی نہیں جس کے شعر کی گہرائیاں اور دنیا کو دیکھنے اور برتنے کے طور اور اظہار کے پیرائے ہمیں میراجی کی یاد دلائیں ۔ (ان) کی طرح علی اکبر ناطق بھی پابند اور معرا نظم میں یکساں طور پر مہارت رکھتے ہیں ۔ علی اکبر ناطق سے اردو ادب جتنی بھی امیدیں وابستہ کرے، نامناسب نہ ہوگا ۔ ان کا سفر بہت لمبا ہوگا لیکن ان کی راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی علی اکبر ناطق کی شاعری میں دست ہنر اور دیدہ بینا کا امتزاج ہے۔ ان دونوں ہی اوصاف کے اظہار کے لیے جرات شرط اول ہے۔ .. علی اکبر جواں سال ہے اور ایوان ادب میں دلربا شان سے داخل ہوا ہے۔ اس کا بے خوف مشاہدہ ادب کے لیے مسرت کی نوید ہے۔ اس کی شاعری میں بھڑکتے شعلے چہار اطراف کو خاکستر کرتے نظر آتے ہیں لیکن وہ قنوطیت کا ، مایوسی اور الم کا شاعر نہیں۔ علی اکبر کی شاعری میں جو زیریں رو موجود ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جبر کبھی شکست قبول نہیں کرتا اور پوری مزاحمت کرتا ہے جس کے بالمقابل ایسے معاشرے، جن سے کبھی سچ نہ بولا گیا ہو، جن کی بنیاد صرف خوش نما جھوٹ پر رکھی گئی ہو، اپنی نادانی کے باعث بے بس ہوجاتے ہیں ۔ جب معاشرے اور قومیں سچائی کے روبرو آنے سے گریز کریں تو ان کا مقدر تباہی بن جاتا ہے، لیکن معاشرہ اپنے آپ کو از سر نو تخلیق بھی کرتا ہے۔ زیر نظر مجموعے میں ہم ایک شاعر کے بیدار، متجسس اور بے خوف ذہن سے روبرو ہوئے ہیں جس کی تخلیقی قوتیں قابل رشک ہیں۔ ان میں سے بعض نظموں کا اساطیری ماحول اور تاریخی شعور موجودہ زمانے کے ساتھ عمدگی سے پیوست ہوجاتے ہیں۔ فہمیده ریاض ISBN 978-969-8380-78-6