{"product_id":"nisf-sadi-ka-qisa","title":"نصف صدی کا قصہ","description":"\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003eسید محمد اشرف کی پیدائش ہائی اسکول سرٹفکٹ کے اعتبار سے 8 \/ جولائی 1957ء میں اتر پردیش کے شہر سیتاپور میں ہوئی جو ان کا ننھیال ہے۔ ان کا وطن مالوف صوفیا، اور ادباء کی مشہور بستی مارہرہ شریف ہے جو اتر پردیش کے ضلع اینہ میں واقع ہے۔ ان کے والد ماجد کا نام سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں قادری اور والدہ محترمہ کا نام سید محبوب فاطمہ نقوی ہے ۔ سیدہ نشاط اشرف ان کی اہلیہ ہیں اور سید نیل اشرف، سیدہ شفا اشرف اور سید ناظم اشرف ان کی اولادوں کے نام ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003eسید محمد اشرف کی ابتدائی تعلیم مارہرہ شریف کی درگاہ برکاتیہ کے مکتب اور اسکول میں ہوئی ۔ اس کے بعد وہ اعلٰی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آگئے جہاں سے اُنھوں نے بی ۔ اے (آنرس) اور ایم اے میں فرسٹ ڈویژن سے کامیابی حاصل کی اور دونوں جماعتوں میں گولڈ میڈل تفویض ہوئے ۔ وہ دوران طالب علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف رسالوں کے مدیر اور کئی ادبی و ثقافتی انجمنوں کے سکریٹری بھی رہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003e1999ء میں انہوں نے علی گڑھ میں البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کی جس میں طلباء و طالبات کے لیے سینئر سیکنڈری اسکول کے علاوہ مینجمنٹ، کمپیوٹر اور بی ـ ایڈ اور مختلف پروفیشنل کورسز کے ادارے ہیں ۔ 1992ء میں انہوں نے کان پور میں \"سرسید پبلک اسکول\" اور 2002ء میں مارہرہ شریف میں مارہرہ پبلک اسکول قائم کیے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003eسید محمد اشرف نے 1981ء میں انڈین سول سروں کے تحت اپنا کیرئیر انڈین ریوینیو سروس میں بطور اسٹنٹ کمشنر آف انکم ٹیکس شروع کیا اور آگرہ، علی گڑھ، کان پور، ممبئی، دہلی اور کولکاتہ میں مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 2016ء میں بحیثیت اور چیف کمشنر انکم ٹیکس 2019ء میں انکم ٹیکس سیٹلمنٹ کمیشن کے وائس چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ فی الوقت وہ علی گڑھ میں البرکات کے مختلف اداروں کا انتظام دیکھنے کے ساتھ ساتھ شعبہ اُردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر بھی ہیں۔ سید محمد اشرف کا ادبی سفر 1973ء میں \"چکر \" نام کے افسانے سے شروع ہوا۔ کتابی شکل میں ان کا پہلا مجموعہ \" ڈار سے پچھڑے\" 1993ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد ان کا ناول \"نمبر دار کا نیلا\" 1997ء میں شائع ہوا۔ 2000ء میں اُن کے افسانوں کا مجموعہ \u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z xdakrdy\"\u003e*\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cstrong class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z x117nqv4\"\u003eباد صبا کا انتظار\u003c\/strong\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z xdakrdy\"\u003e*\u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003e شائع ہوا جس پر 2003 کا مرکزی ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔ اس سے قبل 1995ء میں انھیں بہترین کہانی کے لیے \"کتھا ایوارڈ\" ملا تھا۔ 2011ء میں انھیں اتر پردیش اردو اکادمی کی طرف سے \"لائف ٹائم اچیومنٹ\" اعزاز ملا 2017ء میں مدھیہ پردیش حکومت نے \"اقبال سمان\" کے ذریعے ان کا اعتراف کیا۔ شعاع فاطمہ ایجویشنل ٹرسٹ لکھنو سے \"شمیم نکہت ایوارڈ\" ملا۔ 2018ء میں انھیں \"عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ\" ملا جواردو کا عالمی ایوارڈ مانا جاتا ہے۔2016ء میں اُن کا ناول \" آخری سواریاں\" شائع ہو کر خاص و عام میں بے حد مقبول ہوا۔ ہندو پاک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے فن اور شخصیت پر ایم-فل اور پی ایچ۔ڈی کے مقالے تحریر کیے گئے ۔ 2018ء میں نیشنل بک ٹرسٹ نے ان کے نمائندہ افسانوں کا انتخاب شائع کیا۔سید محمد اشرف نے اپنے فکشن کے ذریعے بیانیہ کے ایک نئے اسلوب کی طرح ڈالی ۔ ان کی نثر جیسی پر تاثیر، مرموز اور روشن نثر لکھنے والے خال خال ہی ہیں ۔ اُن کی کہانیوں کے موضوعات بے حد متنوع ہیں جن کا تعلق انسانی بستیوں ، حیوانی مخلوقات اور ماحولیات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ افسانے کی جمالیات کے عارف اور پارکھ ہیں۔ اُن کے افسانے تہذیب، عہد، ماحول، جنگل، جغرافیہ، احساس،حسن،محبت، شرافت اور انسانی دردمندی کے زندہ استعارے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003eسید محمد اشرف کی تخلیقات کا ترجمہ ہندوستان اور بیرون ممالک کی دوسری کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اردو فکشن کی اس قدآور پر ہم جس قدر فخر کریں کم ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003eکیں جرس از کاروان دیگرست\u003c\/p\u003e\r\n\u003cp class=\"selectable-text copyable-text x15bjb6t x1n2onr6\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"selectable-text copyable-text xkrh14z\"\u003eISBN: 978-969-648-085-3\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Aaj Ki Kitabain","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43293181083737,"sku":null,"price":2400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0651\/6441\/0969\/files\/Nisf-Sadi-Ka-Qisa-scaled.jpg?v=1778184882","url":"https:\/\/lumu.pk\/products\/nisf-sadi-ka-qisa","provider":"LUMU","version":"1.0","type":"link"}